اردو مزاح

اردو مزاحیہ ادب کے لئے مخصوص

ایک اور اطلاع

میرا بلاگ اردو مزاح[url=http://urdumazah.blogspot.com]اردو مزاح[/url]
پہلے بلاگ سپاٹ پر تھا لیکن وہاں‌پر تبصرہ کرنے کی سہولت کچھ سہولت نہیں‌بلکہ تکلیف ہی ہے۔ اس لئے میں‌نے اپنا بلاگ ورڈ پریس پر منتقل کرنے کا سوچا لیکن پھر ورڈ پریس پر امپورٹ کرنے کی سہولت بھی تکلیف ثابت ہوئی۔ ابھی کوئی حل نہیں‌نکل سکا۔ اس لیے میں‌نے دونوں‌بلاگز پر پوسٹنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ دونوں میں‌سے ایک جب فائنل ہوا تو دوسرے پر پوسٹنگ بند کر دوں‌گی۔ کیونکہ دو دو بلاگز پر کام کرنا میرے لیے مشکل ہے اور ناممکن بھی۔

Share This Post

اصلاح مطلوب ہے

ہر آدمی کا بچہ بڑا ہو کر ایک آدمی بنتا ہے اور پھر فارغ بھی ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ ضرور سوچتا ہے۔ یوں تو مجھے بھی بہت کام کرنے ہوتے ہیں مگر زیادہ کام دیکھ کر کچھ کرنے کو جی نہیں کرتا اور صرف کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہوں لیکن آج تو کمال ہو گیا کہ جب سوچتے سوچتے اکتا گیا اور قریب تھا کہ سوچنا چھوڑ دوں تو اچانک ایک بالکل نئی انقلابی سوچ دماغ میں پیدا ہوئی کہ کوئی بڑا کام کیا جائے۔ یہ انقلابی سوچیں بھی بیٹھے بٹھائے ہی پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔ ۔ ۔ نظر دوڑائی تو نظر دوڑی مگر پیچھا کرنے کی اتنی کوشش نہ کی۔ اندازہ ہوا کہ کہ سب بڑے کام بڑے پہلے ہی کر چکے ہیں۔ ایک نظر ان ڈگریوں پر ڈالی جو نالائقی کے باعث حاصل نہ کر سکا۔ دماغ پر زور ڈالا، وہ بھی اثر انداز نہ ہو سکا۔ آخر سوچ اس نتیجہ پر پہنچی کہ کچھ علمی و اصلاحی کام کیا جائے اور محاوروں کو فقروں میں استعمال کرنے کا گیس پیپر تیار کیاجائے جس سے وہ طالب علم مستفید ہو سکیں جو میری طرح اکثر و بیشتر امتحانات میں بری طرح فیل ہو جاتے ہیں اور اسی باعث ان کی شادی ہونے میں کئی کئی سال کی تاخیر ہو جاتی ہے۔ وہ ہمارا گیس پیپر پڑھ کر پرچے میں کم از کم پہلا صفحہ ہی کالا کر دیں، پہلا صفحہ کالا کرنے کے بھی نمبر ملتے ہیں۔ مجھے ایک دفعہ ایک پرچہ کا منہ کالا کرنے پر سو میں سے سات نمبر ملے تھے

خیر یونہی نمبر یاد آ گئے حالانکہ ماضی کا کیا رونا، حال کون سا تابناک ہے کہ مستقبل کی فکر کی جائے؟ ۔ ۔ ۔ علم کا دریا ہے کہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سر کے اوپر سے گزر رہا ہے مگر عقل ہے کہ کام ہی نہیں کر رہی۔ کبھی سوچتا ہوں کہ دو اینٹیں کھڑی رکھ کر ان پر کھڑا ہو جاؤں مگر ڈرتا ہوں کہ پاؤں پھسل گیا تو الٹا خود ہی ڈوب جاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ فقرہ بنانے کا طریقہ و ترکیب سے آپ بخوبی واقف ہونگے ، اس لئے وضاحت کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر آپ واقفیت نہیں رکھتے تو کسی سے پوچھ لیجئے گا اور پتہ نہ چلنے پر بجائے پریشان ہونے کے میری طرح صبر کر لیجئے گا۔ مجھے بھی محاوروں کو فقروں میں استعمال کرنے کا شوق نہیں ہے۔

(علی راز)

Share This Post

ایک اطلاع

اس عارضی پڑائو سے اب یہ بلاگ اپنی اصل منزل کی طرف منتقل ہوتا ہے۔

اردو مزاح

Share This Post

بے ادب رکشے

بے ادب رکشے

“رکشہ” کسی تعارف کا محتاج نہیں کیونکہ نام ہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ قلم اٹھانے کی جسارت صرف اس لئے کی کہ جو باتیں رکشہ کے اندر اور باہر رقم ہوتی ہیں، وہ مسافروں پر کسی نہ کسی انداز سے اثر انداز اور منطبق ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ہم ایوب چوک جسے جھنگ کا “لکشمی چوک” بھی کہہ سکتے ہیں ، کے پاس کھڑے مظلومیت کی تصویر بنے رکشہ کے منتظر تھے۔ نجانے کون سے کونے سے ایک رکشہ ہمارے قریب آ کر رکا۔ ہم انتہائی پھرتی سے اس میں داخل ہوئے مگر شاید اس سے کہیں زیادہ پھرتی سے باہر نکلے اور ہمارے ساتھ ہی ایک جلاد صفت مرد پانچ عدد بچوں کے ہمراہ باہر نکلا کیونکہ رکشہ انہیں اتارنے کے لئے رکا تھا، نہ کہ ہمیں چڑھانے کے لئے۔ ا س کے بعد ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے ، اسی دوران ایک اور رکشہ ہمارے پاس سے ایسے گزرا جیسے کسی کتے کو اینٹ ماری گئی ہو اور وہ چینختا ہوا دوڑتا جائے۔ اس کے پیچھے لکھا تھا۔
“نہ چھیڑ ملنگاں نوں”
آخر کار ہماری رونی صورت دیکھ کر ایک خستہ حال رکشہ رکا۔ اس کی صحت دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ شاید قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں بننے والا پہلا رکشہ یہی تھا۔ اندر داخل ہونے سے پہلے دروازے پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا۔
“سفر کرنے سے قبل پچھلے گناہوں کی معافی مانگ لیں، ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کا آخری سفر ہو”
خیر ، ہم اس میں سوار ہو گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اندر عبارت “ابھی تو میں جوان ہوں” پڑھ کر ہمارا خون کھول اٹھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی سفر شروع کیا ہی تھا کہ بیچ سڑک میں “عالی جاہ” نے قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔ ڈرائیور کے کہنے پر ہمیں چارو ناچار دھکا لگانا پڑااور رکشے کی پشت پر “غوری” لکھا دیکھ کر عجیب حیرت ہوئی۔ جونہی رکشہ سٹارٹ ہوا، ڈرائیور اسے انتہائی پھرتی سے چلانے بلکہ اڑانے لگا۔ رکشے کے اندر مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے خیالات قلم بند کئے ہوئے تھے۔ سیٹ پر یہ شعر لکھا تھا۔
“ابتدائے سفر ہے ، روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ، ہوتا ہے کیا”
رکشہ پوری رفتار سے اپنی منزل یعنی ہماری منزل کی طرف رواں دواں تھا کہ پیچھےسے آتے ہوئے ایک اور رکشہ نے اپنے “بزرگ” کو اوور ٹیک کیا۔ ڈرائیور نے سپیڈ بڑھا دی کیونکہ فقرہ ” جلنے والے کا منہ کالا ” دیکھ کر اسے غیرت آ گئی تھی۔ اب دونوں رکشوں میں مقابلہ شروع ہو گیا۔ جونہی ہم اس رکشے کو اوور ٹیک کرنے لگے، ہماری عقابی نظریں اس کے پیچھے ایک کونےسے صرف یہ پڑھ سکیں۔
” تو لنگھ جا، ساڈی خیر اے”
کچھ رکشے کی نازک اندامی اور کچھ سڑک کی حالت زار کی وجہ سے ہمارا سر مسلسل رکشے کی چھت سے ٹکراتا رہا یا یوں کہہ لیجئے کہ ہم نے آدھا سفر سیٹ پر اور آدھا ہوا میں طے کیا یعنی ایک ٹکٹ میں دو مزے۔ ریلوے پھاٹک کے قریب ہماری رفتار ذرا کم ہوئی تو ایک رکشہ ہمیں پیچھے چھوڑتا ہوا آگے نکل گیا۔ گو ہمارا رکشہ بوڑھا تھا مگر اس کے جذبات ابھی جوان تھے۔ رکشے کے پیچھے تحریر تھا۔
“ہم سا ہو تو سامنے آئے”
یہ عبارت پڑھ کر ڈرائیور کا ہاتھ خودبخود ریس گھماتا چلا گیا، سامنے سے ایک کوسٹر گزری جس پر لکھا تھا۔
“تیز چلو گے ، جلد مرو گے”
ڈرائیور اس سے بے پرواہ اپنی دھن میں مگن تھا البتہ ہم نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا کیونکہ ہمیں “جنت کی ہوا” کے جھونکے آنے شروع ہو گئے تھے۔ آخر کار ڈرائیور کی کوششیں رنگ لائیں، ہم مدمقابل رکشہ کو اوور ٹیک کرنے لگے، اچانک اسی کشمکش میں سامنے سے ایک ٹرک نمودار ہوا جس کی پیشانی پر تحریر تھا۔ “سپرد خدا” ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ صرف ٹرک سپرد خدا تھا، ہمارا رکشہ تو بظاہر سپرد ڈرائیور تھا۔ حسب توقع ٹرک سے ٹکر ہو گئی مگر ہم اس سے قبل ٹارزن کی سی چھلانگ لگا کر باہر کود گئے۔ ٹکر مارتے ہی ٹرک بھاگ کھڑا ہوا کیونکہ ان کی یہ عادت ہوتی ہے کہ ٹکر مار کر ثواب دارین حاصل کریں اور بھاگ کر شکریہ کا موقع دیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ٹرک کا نمبر نوٹ کر لیں مگر اس میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ ٹرک کے پیچھےسلطان راہی مرحوم ہاتھ میں روایتی گنڈاسہ تھامے ہوئے تھے جس سے خون ٹپک رہا تھا اور نیچے لکھا تھا۔
“اچھا ، دوست ! پھر ملیں گے۔”
پہلی بھیانک ملاقات سے ہی ہم ڈر گئے اور چکرا کر رہ گئے۔ اس کے بعد تاحال رکشے میں بیٹھنے کی جرات نہ کی البتہ رکشے کی یاد میں یہ شعر کہنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کچھ اس طرح سے تجھ کو بھلاتا رہا ہوں میں
لکھ لکھ کے نام تیرا مٹاتا رہا ہوں میں
(حافظ محمد ثناء اللہ بابو)

Share This Post

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

تو انٹرنیٹ کھولے اور چیٹنگ روم جا پہنچے
کسی رومانی چینل میں ہوں میں منتظر تیرا
بڑے ہی مان سے میں تجھ سے پوچھوں تیرا اے ایس ایل
تو لکھے سترہ برس کی، وطن انگلینڈ ہے میرا

میں لکھوں ، بیس کا سن ہے، میں ٹورانٹو میں بیٹھا ہوں
یہیں اک اشتہاری کمپنی میں جاب ہے میری
تو لکھے ، میں نمانی ہوں، ادب سے شغل رکھتی ہوں
میں لکھوں ، ہائے، اف اللہ ! تہی تو خواب ہے میری

تو لکھے کیٹس اور ٹیگور پر میں جان دیتی ہوں
میں لکھوں کون ہیں یہ جو رقابت پر ہیں آمادہ
تو لکھے ، آنجہانی ہیں ، بڑے معروف شاعر تھے
میں لکھوں، پارڈن می ! کیا سمجھ بیٹھا تھا میں سادہ

بہت سی ہم میں باتیں ہوں، بہت سی فقرہ سازی ہو
بہت سے جھوٹے افسانے کہیں اک دوسرے سے ہم
یوں اک دوجے میں کھو جائیں ، بھلا دیں ساری دنیا کو
بھلا دیں وقت کی ظالم حقیقت کو سرے سے ہم

بھلا دیں وقت کو ایسے، خبر نہ ہو سکے یکسر
یونیورسٹی سے بیٹا اور بیٹی لوٹ آئے ہیں
تو ان کی کھلکھلاہٹ سن کر سی پو یو کو شٹ کر دے
انہیں معلوم ہے ، ماں باپ نے جو گل کھلائے ہیں

ہمیں وہ لیلٰی مجنوں کہہ کر چھیڑیں ، اور ہم بوڑھے
بہت جھینپیں جوانوں سے ، بہت شرمائیں ہم دونوں
مگر جب اگلا دن آئے ، یہی تجھ سے ہو فرمائش
چلو، اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں


Share This Post